Your Ad Here

ممد بھائی

سعادت حسن منٹو

 


فارس روڈ سے آپ اس طرف گلی میں چلے جایئے جو سفید گلی کہلاتی ہے تو اس کے آخری سرے پر آپ کو چند ہوٹل ملیں گے۔ یوں تو بمبئی میں قدم قدم پر ہوٹل اور ریستوران ہوتے ہیں مگر یہ ریستوران اس لحاظ سے بہت دلچسپ اور منفرد ہیں کہ یہ اس علاقے میں واقع ہیں جہا بھانت بھانت کی رنڈیاں بستی ہیں۔

ایک زمانہ گزر چکا ہے۔ بس آپ یہی سمجھئے کہ بیس برس کے قریب، جب میں ان ریستورانوں میں چائے پیا کرتا تھا اور کھانا کھایا کرتا تھا۔ سفید گلی سے آگے نکل کر " پلے ہاؤس " آتا ہے۔ ادھر دن بھر ہاؤ ہو رہتی ہے۔ سنیما کے شو دن بھر چلتے رہتے تھے۔ چمپیاں ہوتھ تھی۔ سنیما گھر غالبا چار تھے۔ ان کے باہر گھنٹیاں بجا بجا کر بڑے سماعت پاش طریقے پر لوگوں کو مدعو کرتے تھے : " آؤ آؤ - دو آنے میں فسٹ کلاس کھیل دو آنے میں۔"

بعض اوقات یہ گھنٹیاں بجانے والے زبردستی لوگوں کو اندر دھکیل دیتے تھے۔ باہر کرسیوں پر چمپی کرانے والے بیٹھے ہوتے تھے جن کی کھوپڑیوں کی مرمت بڑے سائنٹیفک طریقے پر کی جاتی تھی۔ مالش اچھی چیز ہے، لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ بمبئی کے رہنے والے اس کے اتنے گرویدہ کیوں ہیں۔ دن کو اور رات کو، ہر وقت انہیں تیل مالش کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ آپ اگر چاہیں تو رات کے تین بچے بڑے آسانی سے تیل مالشیا بلا سکتے ہیں۔ یوں بھی ساری رات، آپ خواہ بمبئی کے کسی کونے میں ہوں، یہ آواز آپ یقینا سنتے رہیں گے " پی --- پی --- پی "۔

یہ ، پی ، چمپی کا مخفف ہے۔

فارس روڈ یوں تو ایک سڑک کا نام ہے لیکن دراصل یہ اس پورے علاقے سے منسوب ہے جہاں بیسوائیں بستی ہیں۔ یہ بہت بڑا علاقہ ہے۔ اس میں کئی گلیاں ہیں، جن کے مغتلف نام ہیں، لیکن سہولت کے طور پر اس کی ہر گلی کو فارس روڈ یا سفید گلی کہا جاتا ہے۔ اس میں سینکڑوں جنگلا لگی دکانیں ہیں جن میں مختلف رنگ و سن کی عورتیں بیٹھ کر اپنا جسم بیچتی ہیں۔ مختلف داموں پر، آٹھ آنے سے آٹھ روپے تک، آٹھ روپے سے سو روپے تک۔ ہر دام کی عورت آپ کو اس علاقے میں مل سکتی ہے۔

یہودی، پنجابی، مرہٹی، کشمیری، گجراتی، بنگالی، اینگلو انڈین، فرانسیسی، چینی، جاپانی، غرضیکہ ہر قسم کی عورت آپ کو یہاں سے دستیاب ہو سکتی ہے۔ --- یہ عورتیں کیسی ہوتی ہیں --- معاف کیجیئے گا، اس کے متعلق آپ مجھ سے کچھ نہ پوچھیئے --- بس عورتیں ہوتی ہیں۔ اور ان کو گاہک مل ہی جاتے ہیں۔

اس علاقے میں بہت سے چینی بھی آباد ہیں۔ معلوم نہیں یہ کیا کاروبار کرتے ہیں، مگر رہتے اسی علاقے میں ہیں۔ بعض تو ریستوران چلاتے ہیں جن کے باہر بورڈوں پر اوپر نیچے کیڑے مکوڑوں کی شکل میں کچھ لکھا ہوتا ہے۔ معلوم نہیں کیا۔

اس علاقے میں بزنس مین اور ہر قوم کے لوگ آباد ہیں۔ ایک گلی ہے جس کا نام عرب سین ہے۔ وہاں کے لوگ اسے عرب گلی کہتے ہیں۔ اس زمانے میں جس کی میں بات کر رہا ہوں، اس گلی میں غالبا بیس پچیس عرب رہتے تھے جو خود کو موتیوں کے بیوپاری کہتے تھے۔ باقی آبادی پنجابیوں اور رام پوریوں پر مشتمل تھی۔

اس گلی میں مجھے ایک کمرہ مل گیا تھا جس میں سورج کی روشنی کا داخلہ بند تھا، ہر وقت بجلی کا بلب روشن رہتا تھا۔ اس کا کرایہ ساڑھے نو روپے ماہوار تھا۔

آپ کا اگر بمبئی میں قیام نہیں رہا تو شاید آپ مشکل سے یقین کریں کہ وہاں کسی کو کسی اور سے سروکار نہیں ہوتا۔ اگر آپ اپنی کھولی میں مر رہے ہیں تو آپ کوکوئی نہیں پوچھے گا۔ آپ کے پڑوس میں قتل ہو جائے، مجال ہے جو اپ کو اس کی خبر ہو جائے۔ مگر وہاں عرب گلی میں صرف ایک شخص ایسا تھا جس کو اڑوس پڑوس کے ہر شخص سے دلچسپی تھی۔ اور اس کا ناممد بھائی تھا۔ ممد بھائی رامپور کا رہنے والا تھا۔ اول درجے کا پھکیت، گتکے اور بنوٹ کے فن میں یکتا۔ میں جب عرب گلی میں آیا تو ہوٹلوں میں اس کا نام اکثر سننے میں آیا، لیکن ایک عرصے تک اس سے ملاقات نہ ہو سکی۔

میں صبح سویرے اپنی کھولی سے نکل جاتا تھا اور بہت رات گئے لوٹتا تھا۔ لیکن مجھے ممد بھائی سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا کیونکہ اس کے متعلق عرب گلی میں بے شمار داستانیں مشہور تھیں کہ بیس پچیس آدمی اگر لاٹھیوں سے مسلح ہو کر اس پر ٹوٹ پڑیں تو وہ اس کا بال تک بیکا نہیں کر سکتے۔ ایک منٹ کے اندر اندر وہ سب کو چت کر دیتا ہے۔ اور یہ کہ اس جیسا چھری مار ساری بمبئی میں نہیں مل سکتا۔ ایسے چھری مارتا ہے کہ جس کے لگتی ہے اسے پتہ بھی نہیں چلتا۔ سو قدم بغیر احساس کے چلتا رہتا ہے اور آخر ایک دم ڈھیر ہو جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ اس کے ہاتھ کی صفائی ہے۔

اس کے ہاتھ کی صفائی دیکھنے کا مجھے اشتیاق نہیں تھا لیکن یوں اس کے متعلق اور باتیں سن سن کر میرے دل میں یہ خواہش ضرور پیدا ہو چکی تھی کہ میں اسے دیکھوں۔ اس سے باتیں نہ کروں لیکن قریب سے دیکھ لوں کہ وہ کیسا ہے۔ اس تمام علاقے پر اس کی شخصیت چھائی ہوئی تھی۔ وہ بہت بڑا دادا یعنی بدمعاش تھا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ کہتے تھے کہ اس نے کسی کی بہو بیٹی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ لنگوٹ کا بہت پکا ہے۔ غریبوں کے دکھ درد کا شریک ہے۔ عرب گلی، صرف عرب گلی ہی نہیں، آس پاس جتنی گلیاں تھیں، ان میں جتنی نادار عورتیں تھیں سب ممد بھائی کو جانتی تھیں کیونکہ وہ اکثر ان کی مالی امداد کرتا رہتا تھا۔ لیکن وہ خود ان کے پاس کبھی نہیں جاتا تھا۔ اپنے کسی خورسال شاگرد کو بھیج دیتا تھا اور ان کی خیریت دریافت کر لیا کرتا تھا۔

مجھے معلوم نہیں اس کی آمدنی کے کیا ذرائع تھے۔ اچھا کھاتا تھا، اچھا پہنتا تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا تانگہ تھا جس میں بڑا تندرست ٹٹو جتا ہوتا تھا۔ اس کو وہ خود چلاتا تھا۔ ساتھ دو یا تین شاگرد ہوتے تھے۔ بڑے باادب بھنڈی بازار کا ایک چکر لگا کر یا کسی درگاہ میں ہو کر وہ اس تانگے میں واپس عرب گلی آ جاتا تھا اور کسی ایرانی کے ہوٹل میں بیٹھ کر اپنے شاگردوں کے ساتھ گتکے اور بنوٹ کی باتوں میں مصروف ہو جاتا تھا۔

میری کھولی کے ساتھ ہی ایک اور کھولی تھی جس میں مارواڑ کا ایک مسلمان رقاص رہتا تھا۔ اس نے مجھے ممد بھائی کی سینکڑوں کہانیاں سنائیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ ممد بھائی ایک لاکھ روپے کا آدمی ہے۔ اس کو ایک مرتبہ ہیضہ ہو گیا تھا۔ ممد بھائی کو پتہ چلا تو اس نے فارس روڈ کے تمام ڈاکٹر اس کی کھولی میں اکٹھے کر دیے اور ان سے کہا، " دیکھو، اگر عاشق حسین کو کچھ ہو گیا تو میں سب کا صفایا کر دوں گا۔" عاشق حسین نے بڑے عقیدت مندانہ لہبے میں مجھ سے کہا، " منٹو صاحب، ممد بھائی فرشتہ ہے ۔۔۔۔ فرشتہ ۔۔۔۔ جب اس نے ڈاکٹروں کو دھمکی دی تو وہ سب کانپنے لگے۔ ایسا لگ کے علاج کیا کہ میں دو دن میں ٹھیک ٹھاک ہو گیا۔

ممد بھائی کے متعلق میں عرب گلی کے گندے اور واہیات ریستورانوں میں اور بھی بہت کچھ سن چکا تھا۔ ایک شخص نے غالبا اس کا شاگرد تھا اور خود کو بہت بڑا پھکیت سمجھتا تھا، مجھ سے یہ کہا کہ ممد دادا اپنے نیفے میں ایک ایسا آبدار خنجر اڑس کر رکھتا ہے جو استرے کی طرح شیو بھی کر سکتا ہے اور یہ خنجر نیام میں نہیں ہوتا، کھلا رہتا ہے۔ بالکل ننگا، اور وہ بھی اس کے پیٹ کے ساتھ۔ اس کی نوک اتنی تیکھی ہے کہ اگر باتیں کرتے ہوئے، جھکتے ہوئے، اس سے ذرا سی غلطی ہو جائے تو ممد بھائی کا ایک دم کام تمام ہو کے رہ جائے۔

ظاہر ہے کہ اس کو دیکھنے اور اس سے ملنے کا اشتیاق دن بدن میرے دل و دماغ میں بڑھتا گیا۔ معلوم نہیں میں نے اپنے تصور میں اس کی شکل و صورت کا کیا نقشہ تیار کیا تھا، بہرحال اتنی مدت کے بعد مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میں ایک قوی ہیکل انسان کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا تھا جس کا نام ممد بھائی تھا، اس قسم کا آدمی جو ہرکولیس سائیکلوں پر اشتہار کے طور دیا جاتا ہے۔

میں صبح سویرے اپنے کام پر نکل جاتا تھا اور رات کو دس بجے کے قریب کھانے وانے سے فارغ ہو کر واپس آ کر فورا سو جاتا تھا۔ اس دوران میں ممد بھائی سے کیسے ملاقات ہو سکتی تھی۔ میں نے کئی مرتبہ سوچا کہ کام پر نہ جاؤں اور سارا دن عرب گلی میں گزار کر ممد بھائی کو دیکھنے کی کوشش کروں، مگر افسوس کہ میں ایسا نہ کر سکا اس لیے کہ میری ملازمت ہی بڑی واہیات قسم کی تھی۔

ممد بھائی سے ملاقات کرنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک انفلوئنزا نے مجھ پر زبردست حملہ کیا۔ ایسا حملہ کہ میں بوکھلا گیا۔ خطرہ تھا کہ یہ بگڑ کر نمونیا میں تبدیل ہو جائے گا، کیونکہ عرب گلی کے ایک ڈاکٹر نے یہی کہا تھا۔ میں بالکل تن تنہا تھا۔ میرے ساتھ جو ایک آدمی رہتا تھا، اس کو پونہ میں نوکری مل گئی تھی، اسلیے اس کی رفاقت بھی نصیب نہیں تھی۔ میں بخار میں پھنکا جا رہا تھا ۔ اس قدر پیاس تھی کہ جو پانی کھولی میں رکھا تھا، وہ میرے لیے ناکافی تھا۔ اور دوست یار کوئی پاس نہیں تھا جومیری دیکھ بھال کرتا۔

میں بہت سخت جان ہوں، دیکھ بھال کی مجھے عموما ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ مگر معلوم نہیں کہ وہ کس قسم کا بخار تھا۔ انفلوئنزا تھا، ملیریا تھا یا اور کیا تھا۔ لیکن اس نے میری ریڑھ کی ہڈی بوڑ دی۔ میں بلبلانے لگا۔ میرے دل میں پہلی مرتبہ خواہش پیدا ہوئی کہ میرے پاس کوئی ہو جو مجھے دلاسے دے۔ دلاسہ نہ دے تو کم از کم ایک سیکنڈ کے لیے اپنی شکل دکھا کے چلا جائے تا کہ مجھے یہ خوشگوار احساس ہو کہ مجھے پوچھنے والا بھی کوئی ہے۔

دو دن تک میں بستر میں پڑا تکلیف بھری کروٹیں لیتا رہا، مگر کوئی نہ آیا۔ آنا بھی کسے تھا۔ میری جان پہچان کے آدمی ہی کتنے تھے ۔۔۔ دو تین یا چار ۔۔۔ اور وہ اتنی دور رہتے تھے کہ ان کو میری موت کا علم بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ اور پھر وہاں بمبئی میں کون کس کو پوچھتا ہے ۔۔۔ کوئی مرے یا جئے ۔۔۔ ان کی بلا سے ۔۔۔۔۔

میری بہت بری حالت تھی۔ عاشق حسین ڈانسر کی بیوی بیمار تھی اس لیے وہ اپنے وطن جا چکا تھا۔ یہ مجھے ہوٹل کے چھوکرے نے بتایا تھا۔ اب میں کس کو بلاتا۔ بڑی نڈھال حالت میں تھا اور سوچ رہا تھا کہ خود نیچے اتروں اور کسی ڈاکٹر کے پاس جاؤں کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے خیال کی کہ ہوٹل کا چھوکرا جسے بمبئی کی زبان میں باہر والا کہتے ہیں ہو گا۔ بڑی مریل آواز میں کہا، " آ جاؤ۔"

دروازہ کھلا اور ایک چھریرے بدن کا آدمی جس کی مونچھیں مجھے سب سے پہلے دکھائی دیں اندر داخل ہوا۔

اس کی مونچھیں ہی سب کچھ تھیں۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کی مونچھیں نہ ہوتیں تو بہت ممکن ہے کہ وہ کچھ بھی نہ ہوتا۔ اس کی مونچھوں ہی نے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے سارے وجود کو زندگی بخش رکھی ہے۔

وہ اندر آیا اور اپنی قیصر ولیم جیسی مونچھوں کو ایک انگلی سے ٹھیک کرتے ہوئے میری کھاٹ کے قریب آیا۔ اس کے پیچھے پیچھے تین چار آدمی تھے، عجیب و غریب وضع قطع کے۔ میں بہت حیران تھا کہ یہ کون ہیں اور میرے پاس کیوں آئے ہیں۔

قیصر ولیم جیسی مونچھوں اور چھریرے بدن والے آدمی نے مجھ سے بڑی نرم و نازک آواس میں کہا، " ومٹو صاحب، آپ نے حد کر دی۔ سالا مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟" منٹو کا ومٹو بن جانا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس کے علاوہ میں اس موڈ میں بھی نہیں تھا کہ میں اس کی اصلاح کرتا۔ میں نے اپنی نحیف آواز میں اس کی مونچھوں سے صرف اتنا کہا، " آپ کون ہیں؟"

اس نے مختصر سا جواب دیا، " ممد بھائی۔"

میں اٹھ کر بیٹھ گیا، " ممد بھائی ۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔ تو آپ ممد بھائی ہیں ۔۔۔۔ مشہور دادا۔"

میں نے یہ کہہ تو دیا۔ لیکن فورا مجھے اپنے بینڈے پن کا احساس ہوا اور رک گیا۔ ممد بھائی نے چھوٹی انگلی سے اپنی مونچھوں کے کرخت بال ذرا اوپر کئے اور مسکرایا " ہاں ومٹو بھائی ۔۔۔ میں ممد ہوں ۔۔۔ یہاں کا مشہور دادا ۔۔۔۔ مجھے باہر والے سے معلوم ہوا کہ تم بیمار ہو ۔۔۔ سالا یہ بھی کوئی بات ہے کہ تم نے مجھے خبر نہ کی۔ ممد بھائی کا مستک پھر جاتا ہے جب کوئی ایسی بات ہوتی ہے۔"

میں جواب میں کچھ کہنے والا تھا کہ اس نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک سے مخاطب ہو کر کہا، " ارے ۔۔۔ کیا نام ہے تیرا ۔۔۔ جا بھاگ کے جا، اور کیا نام ہے اس ڈاکٹر کا ۔۔۔ سمجھ گئے نا، اس سے کہہ کہ ممد بھائی تجھے بلاتا ہے ۔۔۔ ایک دم جلدی آ ۔۔۔ ایک دم سب کام چھوڑ دے اور جلدی آ اور دیکھ سالے سے کہنا، سب دوائیں لیتا آئے۔"

ممد بھائی نے جس کو حکم دیا تھا وہ ایک دم چلا گیا۔ میں سوچ رہا تھا۔ میں اس کو دیکھ رہا تھا۔ وہ تمام داستانیں میرے بخار آلود دماغ میں چل پھر رہی تھیں۔ جو میں اس کے متعلق لوگوں سے سن چکا تھا۔۔۔۔ لیکن گڈ مڈ صورت میں۔ کیونکہ بار بار اس کو دیکھنے کی وجہ سے اس کی مونچھیں سب پر چھا جاتی تھیں۔ بڑی خوفناک، مگر بڑی خوبصورت مونچھیں تھیں۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس چہرے کو جس کے خدوخال بڑے ملائم اور نرم و نازک ہیں، صرف خوفناک بنانے کے لئے یہ مونچھیں رکھی گئی ہیں۔ میں نے اپنے بخار آلود دماغ میں سوچا کہ یہ شخص درحقیقت اتنا خوفناک نہیں جتنا اس نے خودکو ظاہر کر رکھا ہے۔

 

کھولی میں کوئی کرسی نہیں تھی۔ میں نے ممد بھائی سے کہا کہ وہ میری چارپائی پر بیٹھ جائے مگر اس نے انکار کر دیا اور بڑے روکھے سے لہجے میں کہا، " ٹھیک ہے ۔۔۔ ہم کھڑے رہیں گے۔"

پھر اس نے ٹہلتے ہوئے ۔۔۔۔ حالانکہ اس کھولی میں اس عیاشی کی کوئی گنجائش نہین تھی، کرتے کا دامن اٹھا کر پاجامے کے نیفے سے ایک خنجر نکالا ۔۔۔۔ میں سمجھا چاندی کا ہے۔ اس قدر لشک رہا تھا کہ میں آپ سے کیا کہوں۔ یہ خنجر نکال کر پہلے اس نے اپنی کلائی پر پھیرا۔ جو بال اس کی زد میں آئے، سب صاف ہو گئے۔ اس نے اس پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا اور ناخن تراشنے لگا۔

اس کی آمد ہی سے میرا بخار کئی درجے نیچے اتر گیا تھا۔ میں نے اب کسی قدر ہوش مند حالت میں اس سے کہا، " ممد بھائی ۔۔۔۔ یہ چھری تم اس طرح اپنے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نیفے میں ۔۔۔۔ یعنی بالکل اپنے پیٹ کے ساتھ رکھتے ہو۔ اتنی تیز ہے، کیا تمہیں خوف محسوس نہیں ہوتا؟" ممد نے خنجر سے اپنے ناخن کی ایک قاش بڑی صفائی سے اڑاتے ہوئے جواب دیا، " ومٹو بھائ ۔۔۔۔ یہ چھری دوسروں کے لیے ہے۔ یہ اچھی طرح جانتی ہے۔ سالی، اپنی چیز ہے، مجھے نقصان کیسے پہنچائے گی؟"

چھرٰ سے جو رشتہ اس نے قائم کیا تھا وہ کچھ ایسا ہی تھا جیسے کوئی ماں یا باپ کہے کہ یہ میرا بیٹا ہے، یا بیٹی ہے۔ اس کا ہاتھ مجھ پر کیسے اٹھ سکتا ہے۔

ڈاکٹر آ گیا ۔۔۔ اس کا نام پنٹو تھا، اور میں ومٹو ۔۔۔۔ اس نے ممد بھائی کو اپنے کرسچئین انداز میں سلام کیا اور پوچھا کہ معاملہ کیا ہے۔ جو معاملہ تھا وہ ممد بھائی نے بیان کر دیا۔ مختصر، لیکن کڑے الفاظ میں، جم میں تحکم تھا کہ دیکھو اگر تم نے ومٹو بھائی کا علاج اچھی طرح نہ کیا تو تمہاری خیر نہیں۔

ڈاکٹر پنٹو نے فرماں بردار لڑکے کی طرح اپنا کام کیا۔ میری نبض دیکھی ۔۔۔ سٹیتھو سکوپ لگا کر میرے سینے اور پیٹھ کا معائنہ کیا۔ بلڈ پریشر دیکھا۔ مجھ سے میری بیماری کی تمام تفصیل پوچھی۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے نہیں، ممد بھائی سے کہا، " کوئی فکر کی بات نہیں۔ ملیریا ہے ۔۔۔ میں انجکشن لگا دیتا ہوں۔"

ممد بھائی مجھ سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔ اس نے ڈاکٹر پنٹو کی بات سنی اور خنجر سے اپنی کلائی کے بال اڑاتے ہوئے کہا، " میں کچھ نہیں جانتا، انجکشن دینا ہے تو دے دو، لیکن اگر اسے کچھ ہو گیا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

ڈاکٹر پنٹو کانپ گیا، " نہیں ممد بھائی ۔۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔"

ممد بھائی نے خنجر اپنے نیفے میں اڑس لیا، " تو ٹھیکہے۔"

" تو میں انجکشن لگاتا ہوں۔" ڈاکٹر نے اپنا بیگ کھولا اور سرنج نکالی۔

"ٹھہرو ۔۔۔۔ ٹھہرو ۔۔۔۔"

ممد بھائی گھبرا گیا تھا۔ ڈاکٹر نے سرنج فورا بیگ میں واپس رکھ دی، اور ممیاتے ہوئے ممد بھائی سے مخاطب ہوا، " کیوں؟ "

" بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کسی کے سوئی لگتے نہیں دیکھ سکتا۔" یہ کہہ کر وہ کھولی سے باہر چلا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے ساتھی بھی چلے گئے۔

ڈاکٹر پنٹو نے میرے کونین کا انجکشن لگایا۔ بڑے سلیقے سے، ورنہ ملیریا کا یہ انجکشن بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ جب وہ فارغ ہوا تو میں نے اس سے فیس پوچھی۔ اس نے کہا، " دس روپے۔" میں تکیئے کے نیچے سے اپنا بٹوا نکال رہا تھا کہ ممد بھائی اندر آ گیا۔ اس وقت میں دس روپے کا نوٹ ڈاکٹر پنٹو کو دے رہا تھا۔

ممد بھائی نے غضب آلود نگاہوں سے مجھے اور ڈاکٹر کو دیکھا اور گرج کر کہا،" یہ کیا ہو رہا ہے؟"

میں نے کہا، " فیس دے رہا ہوں۔"

ممد بھائی ڈاکٹر پنٹو سے مخاطب ہوا، " سالے یہ فیس کیسی لے رہے ہو؟"

ڈاکٹر پنٹو بوکھلا گیا، " میں کب لے رہا ہوں ۔۔۔۔ یہ دے رہے تھے۔"

" سالا ۔۔۔۔۔ ہم سے فیس لیتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واپس کرو یہ نوٹ۔" ممد بھائی کے لہجے میں اس کے خنجر ایسی تیزی تھی۔

ڈاکٹر پنٹو نے مجھے نوٹ واپس کر دیا اور بیگ بند کر کے ممد بھائی سے معذرت طلب کرتے ہوئے چلا گیا۔

ممد بھائی نے ایک انگلی سے اپنی کانٹوں ایسی مونچھوں کو تاؤ دیا اور مسکرایا، " ومٹو بھائی ۔۔۔۔ یہ بھی کوئی بات ہے کہ اس علاقے کا ڈاکٹر تم سے فیس لے ۔۔۔۔ تمہاری قسم، اپنی مونچھیں منڈوا دیتا اگر اس سالے نے فیس لی ہوتی ۔۔۔۔ یہاں سب تمہارے غلام ہیں۔"

تھوڑے سے توقف کے بعد میں نے اس سے پوچھا، " ممد بھائی، تم مجھے کیسے جانتے ہو؟"

ممد بھائی کی مونچھیں تھرتھرائیں، " ممد بھائی کسے نہیں جانتا ۔۔۔۔ ہم یہاں کے بادشاہ ہیں پیارے ۔۔۔۔ اپنی رعایا کا خیال رکھتے ہیں۔ ہماری سی آئی ڈی ہے وہ ہمیں بتاتی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔ کون آیا ہے، کون گیا ہے، کون اچھی حالت میں ہے، کون بری حالت میں ۔۔۔۔۔ تمہارے متعلق ہم سب کچھ جانتے ہیں۔"

میں نے ازراہ تفنن پوچھا، " کیا جانتے ہیں آپ؟"

"سالا ۔۔۔۔ ہم کیا نہیں جانتے ۔۔۔۔۔ تم امرتسر کا رہنے والا ہے ۔۔۔۔۔ کشمیری ہے ۔۔۔۔ یہاں اخباروں میں کام کرتا ہے ۔۔۔۔ تم نے بسم اللہ ہوٹل کے دس روپے دینے ہیں، اسی لیے تم ادھر سے نہیں گزرتے۔ بھنڈی بازار میں ایک پان والا تمہاری جان کو روتا ہے۔ اس سے تم بیس روپے دس آنے کے سگریٹ لے کر پھونک چکے ہو۔"

میں پانی پانی ہو گیا۔

ممد بھائی نے اپنی کرخت مونچھوں پر ایک انگلی پھیری اور مسکرا کر کہا، " ومٹو بھائی، کچھ فکر نہ کرو۔ تمہارے سب قرض چکا دیئے گئے ہیں۔ اب تم نئے سرے سے معاملہ شروع کر سکتے ہو۔ میں نے اس سالون سے کہہ دیا ہے کہ خبردار اگر ومٹو بھائی کو تم نے تنگ کیا ۔۔۔۔ اور ممد بھائی تم سے کہتا ہے کہ انشاٗ اللہ کوئی تمہیں تنگ نہیں کرتے گا۔"

میرے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس سے کیا کہوں۔ بیمار تھا، کونین کا ٹیکہ لگ چکا تھا جس کے باعث کانوں میں شائیں شائیں ہو رہی تھی۔ اس کے علاوہ میں اس کے خلوص کے نیچے اتنا دب چکا تھا کہ اگر مجھے کوئی نکالنے کی کوشش کرتا تو اسے بہت محنت کرنی پڑتی ۔۔۔۔ میں صرف اتنا کہہ سکا، " ممد بھائی، خدا تمہیں زندہ رکھے ۔۔۔۔ تم خوش رہو۔"

ممد بھائی نے اپنی مونچھوں کے بال ذرا اوپر کئے اور کچھ کہے بغیر چلا گیا۔

ڈاکٹر پنٹو ہر روز صبح شام آتا رہا۔ میں نے اس سے کئی مرتبہ فیس کا ذکر کیا مگر اس نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا، " نہیں مسٹر منٹو، ممد بھائی کا معاملہ ہے میں ایک ڈیڑھیا بھی نہیں لے سکتا۔ میں نے سوچا یہ ممد بھائی کوئی بہت بڑا آدمی ہے۔ یعنی خوفناک قسم کا جس سے ڈاکٹر پنٹو جو بڑا خسیس قسم کا آدمی ہے، ڈرتا ہے اور مجھ سے فیس لینے کی جرات نہیں کرتا۔ حالانکہ وہ اپنی جیب سے انجکشنوں پر کرچ کر رہا تھا۔

بیماری کے دوران میں ممد بھائی بھی بلاناغہ آتا رہا۔ کبھی صبح آتا، کبھی شام کو، اپنے چھ سات شاگردوں کے ساتھ۔ اور مجھے ہر ممکن طریقے سے ڈھارس دیتا تھا کہ معمولی ملیریا ہے، تم ڈاکٹر پنٹو کے علاج سے انشاٗ اللہ بہت جلد ٹھیک ٹھاک ہو جاؤ گے۔

پندرہ روز کے بعد میں ٹھیک ٹھاک ہو گیا۔ اس دوران میں ممد بھائی کے ہر خد و کال کو اچھی طرح دیکھ چکا تھا۔

جیسا کہ میں اس سے پیشتر کہہ چکا ہوں، وہ چھریرے بدن کا آدمی تھا۔ عمر یہی پچیس تیس کے درمیان ہو گی۔ پتلی پتلی بانہیں، ٹانگیں بھی ایسی ہی تھیں۔ ہاتھ بلا کے پھرتیلے تھے۔ ان سے جب وہ چھوٹا سا تیز دھار چاقو کسی دشمن پر پھینکتا تھا تو وہ سیدھا اس کے دل میں کُھبتا تھا۔ یہ مجھے عرب گلی کے لوگوں نے بتایا تھا۔

اس کے متعلق بے شمار باتیں مشہور تھیں۔ اس نے کسی کو قتل کیا تھا، میں اس کے متعلق وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ چھری مار وہ اول درجے کا تھا۔ بنوٹ اور گتکے کا ماہر۔ یوں سب کہتے تھے کہ وہ سینکڑوں قتل کر چکا ہے، مگر میں یہ اب بھی ماننے کو تیار نہیں۔

لیکن جب میں اس کے خنبر کے متعلق سوچتا ہوں تو میرے تن بدن پر جھرجھری سی طاری ہو جاتی ہے۔ یہ خوف ناک ہتھیار وہ کیوں ہر وقت اپنی شلوار کے نیفے میں اڑسے رہتا ہے۔ میں جب اچھا ہو گیا تو ایک دن عرب گلی کے ایک تھرڈ کلاس چینی ریستوران میں اس سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ اپنا وہی خوف ناک خنجر نکال کر اپنے ناخن کاٹ رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا، " ممد بھائی ۔۔۔۔ آج کل بندوق پستول کا زمانہ ہے ۔۔۔۔ تم یہ خنجر کیوں لیے پھرتے ہو؟"

 

ممد بھائی نے اپنی کرخت مونچھوں پر ایک انگلی پھیری اور کہا، " ومٹو بھائی بندوق پستول میں کوئی مزا نہیں۔ انہیں کوئی بچہ بھی چلا سکتا ہے۔ گھوڑا دبایا اور ٹھاہ ۔۔۔۔۔ اس میں کیا مزا ہے۔ یہ چیز ۔۔۔۔ یہ خنجر ۔۔۔۔۔ یہ چھری ۔۔۔۔۔ یہ چاقو ۔۔۔۔۔ مزا آتا ہے نا، خدا کی قسم ۔۔۔۔ یہ وہ ہے ۔۔۔۔ تم کیا کہا کرتے ہو ۔۔۔۔۔ ہاں آرٹ ۔۔۔۔۔ اس میں آرٹ ہوتا ہے میری جان ۔۔۔۔۔۔ جس کو چاقو یا چھری چلانے کا آرٹ نہ آتا ہو وہ ایک دم کنڈم ہے۔ پستول کیا ہے ۔۔۔۔ کھلونا ہے ۔۔۔۔ جو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔۔۔۔۔ پر اس میں کیا لطف آتا ہے ۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔۔۔ تم یہ خنجر دیکھو ۔۔۔۔ اس کی تیز دھار دیکھو۔" یہ کہتے ہوئے اس نے انگوٹھے پر لب لگایا اور اس کی دھار پر پھیرا۔ " اس سے کوئی دھماکہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ بس، یوں پیٹ کے اندر داخل کر دو ۔۔۔۔ اس صفائی سے کہ اس سالے کو معلوم تک نہ ہو ۔۔۔۔۔ بندوق پستول سب بکواس ہے۔"

ممد بھائی سے اب ہر روز کسی نہ کسی وقت ملاقات ہو جاتی تھی۔ میں اس کا ممنون احسان تھا لیکن جب میں اس کا ذکر کرتا تو وہ ناراض ہو جاتا۔ کہتا تھا کہ میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا، یہ تو میرا فرض تھا۔

جب میں نے کچھ تفتیش کی تو مجھے معلوم ہوا کہ فارس روڈ کے علاقے کا وہ ایک قسم کا حاکم ہے۔ ایسا حاکم جو ہر شخص کی خبر گیری کرتا تھا۔ کوئی بیمار ہو، کسی کے کوئی تکلیف ہو، ممد بھائی اس کے پاس پہنچ جاتا تھا۔ اور یہ اس کی سی آئی ڈی کا کام تھا جو اس کو ہر چیز سے باخبر رکھتی تھی۔

وہ دادا تھا یعنی ایک غنڈہ لیکن میری سمجھ میں اب بھی نہیں آتا کہ وہ کس لحاظ سے غنڈہ تھا۔ خدا واحد شاہد ہے کہ میں نے اس میں کوئی غنڈہ پن نہیں دیکھا۔ ایک صرف اس کی مونچھیں تھیں جو اس کو ہیبت ناک بنائے رکھتی تھیں۔ لیکن اس کو ان سے پیار تھا۔ وہ ان کی اس طرح پرورش کرتا تھا جس طرح کوئی اپنے بچے کی کرے۔

اس کی مونچھوں کا ایک ایک بال کھڑا تھا، جیسے خار پشت کا ۔۔۔۔۔ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ ممد بھائی ہر روز اپنی مونچھوں کو بالائی کھلاتا ہے۔ جب کھانا کھاتا ہے تو سالن بھری انگلیوں سے اپنی مونچھیں ضرور مروڑتا ہے کہ بزرگوں کے کہنے کے مطابق یوں بالوں میں طاقت آتی ہے۔

میں اس سے پیشتر غالبا کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ اس کی مونچھیں بڑی خوفناک تھیں۔ دراصل مونچھوں کا نام ہی ممد بھائی تھا۔ یا اس کا خنبر کا جو اس کی تنگ گھیرے کی شلوار کے نیفے میں ہر وقت موجود رہتا تھا۔ مجھے ان دونوں چیزوں سے ڈر لگتا تھا، نہ معلوم کیوں۔

ممد بھائی یوں تو اس علاقے کا بہت بڑا دادا تھا، لیکن وہ سب کا ہمدرد تھا۔ معلوم نہیں اس کی آمدنی کے کیا ذرائع تھے، پر وہ ہر حاجت مند کی بروقت مدد کرتا تھا۔ اس علاقے کی تمام رنڈیاں اس کو اپنا پیر مانتی تھیں۔ چونکہ وہ ایک مانا ہوا غنڈہ تھا، اس لیے لازم تھا کہ اس کا تعلق وہاں کی کسی طوائف سے ہوتا، مگر مجھے معلوم ہوا کہ اس قسم کے سلسلے سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں رہا تھا۔

میری اس کی بڑی دوستی ہو گئی تھی۔ ان پڑھ تھا، لیکن جانے کیوں وہ میری اتنی عزت کرتا تھا کہ عرب گلی کے تمام آدمی رشک کرتے تھے۔ ایک دن صبح سویرے، دفتر جاتے وقت میں نے چینی کے ہوٹل میں کسی سے سنا کہ ممد بھائی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مجھے بہت تعجب ہوا، اس لیے کہ تمام تھانے والے اس کے دوست تھے۔ کیا وجہ ہو سکتی تھی ۔۔۔۔۔ میں نے اس آدمی سے پوچھا کہ کیا بات ہوئی جو ممد بھائی گرفتار ہو گیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ اسی عرب گلی میں ایک عورت رہتی ہے جس کا نام شیریں بائی ہے۔ اس کی ایک جوان لڑکی ہے۔ اس کو کل ایک آدمی نے خراب کر دیا۔ یعنی اس کی عصمت دری کر دی۔ شیریں بائی روتی ہوئی ممد بھائی کے پاس آئی اور اس سے کہا، " تم یہاں کے دادا ہو۔ میری بیٹی سے فلاں آدمی نے یہ برا کیا ہے۔ لعنت ہے تم پر کہ تم گھر میں بیٹھے ہو۔" ممد بھائی نے یہ موٹی گالی اس بڑھیا کو دی اور کہا، " تم چاہتی کیا ہو؟" اس نے کہا، " میں یہ چاہتی ہوں کہ تم اس حرام زادے کا پیٹ چاک کر دو۔"

ممد بھائی اس وقت ہوٹل میں سیس پاؤں کے ساتھ قیمہ کھا رہا تھا۔ یہ سن کر اس نے اپنے نیفے میں سے خنجر نکالا۔ اس پر انگوٹھا پھیر کر اس کی دھار دیکھی اور بڑھیا سے کہا، " جا تیرا کام ہو جائے گا۔"

اور اس کا کام ہو گیا ۔۔۔۔۔ دوسرے معنوں میں جس آدمی نے اس بڑھیا کی لڑکی کی عصمت دری کی تھی، آدھ گھنٹے کے اندر اندر اس کا کام تمام ہو گیا۔

ممد بھائی گرفتارتو ہو گیا تھا، مگر اس نے کام اتنی ہوشیاری اور چابک دستی سے کیا تھا کہ اس کے خلاف کوئی شہادت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ اگر کوئی عینی شاہد موجود بھی ہوتا تو وہ کبھی عدالت میں بیان نہ دیتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

دو دن حوالات میں رہا تھا، مگر اس کو وہاں کوئی تکلیف نہ تھی۔ پولیس کے سپاہی، انسپکٹر، سب انسپکٹر، سب اس کو جانتے تھے۔ لیکن جب وہ ضمانت پر رہا ہو کر باہر آیا تو میں نے محسوس کیا کہ اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ اس کی مونچھیں جو خوفناک طور پر اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں اب کسی قدر جھکی ہوئی تھیں۔

چینی کے ہوٹل میں اس سے میری ملاقات ہوئی۔ اسکے کپڑے جو ہمیشہ اجلے ہوتے تھے، میلے تھے، میں نے اس سے قتل کے متعلق کوئی بات نہ کی لیکن اس نے خود کہا، " ومٹو صاحب، مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ سالا دیر سے مرا ۔۔۔۔ چھری مارنے میں مجھ سے غلطی ہو گئی، ہاتھ ٹیڑھا پڑا ۔۔۔۔ لیکن وہ بھی اس سالے کا قصور تھا ۔۔۔۔۔ ایک دم مڑ گیا اور اس وجہ سے سارا معاملہ کنڈم ہو گیا ۔۔۔۔ لیکن مر گیا ۔۔۔۔ ذرا تکلیف کے ساتھ، جس کا مجھے افسوس ہے۔"

آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ میرا رد عمل کیا ہو گا۔ یعنی اس کو افسوس تھا کہ وہ اسے بطریق احسن قتل نہ کر سکا، اور یہ کہ مرنے میں اسے ذرا تکلیف ہوئی ہے۔

مقدمہ چلنا تھا ۔۔۔۔۔ اور ممد بھائی اس سے بہت گھبراتا تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں عدالت کی شکل کبھی نہیں دیکھی تھی۔ معلوم نہیں اس نے اس سے پہلے بھی قتل کئے تھے کہ نہیں، لیکن جہاں تک میرے معلومات کا تعلق تھا وہ مجسٹریٹ، وکیل اور گواہ کے متعلق کچھ نہیں جانتا تھا، اس لیے کہ اس کا سابقہ ان لوگوں سے کبھی پڑا ہی نہیں تھا۔

وہ بہت فکر مند تھا۔ پولیس نے جب کیس پیش کرنا چاہا اور تاریخ مقرر ہو گئی تو ممد بھائی بہت پریشان ہو گیا۔ عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے کیسے حاضر ہوا جاتا ہے، اس کے متعلق اس کو قطعا معلوم نہیں تھا۔ بار بار وہ اپنی کرخت مونچھوں پر انگلیاں پھیرتا اور مجھ سے کہتا تھا " ومٹو صاحب، میں مر جاؤں گا، پر کورٹ میں نہیں جاؤں گا۔ سالی، معلوم نہیں کیسی جگہ ہے۔"

عرب گلی میں اس کے کئے دوست تھے۔ انہوں نے اس کو ڈھارس دی کہ معاملہ سنگین نہیں ہے۔ کوئی گواہ موجود نہیں۔ ایک صرف اس کی مونچھیں ہیں جو مجسٹریٹ کے دل میں اس کے خلاف یقینی طور پر کوئی مخالف جذبہ پیدا کر سکتی ہیں۔

جیسا کہ میں اس سے پیشتر کہہ چکا ہوں، اس کی صرف مونچھیں ہی تھیں جو اس کو خوفناک بناتی تھیں ۔۔۔ اگر یہ نہ ہوتیں تو وہ ہرگز ہرگز " دادا " دکھائی نہ دیتا تھا۔

اس نے بہت غور کیا۔ اس کی ضمانت تھانے ہی میں ہو گئی تھی۔ اب اسے عدالت میں پیش ہونا تھا۔ مجسٹریٹ سے وہ بہت گھبراتا تھا۔ ایرانی کے ہوٹل میں جب میری اس کی ملاقات ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ وہ بہت پریشان ہے۔ اس کو اپنی مونچھوں کے متعلق بڑی فکر تھی۔ وہ سوچتا تھا کہ ان کے ساتھ اگر وہ عدالت میں پیش ہوا تو بہت ممکن ہے اس کو سزا ہو جائے۔

آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کہانی ہے، مگر یہ واقعہ ہے کہ وہ بہت پریشان تھا۔ اس کے تمام شاگرد حیران تھے، اس لیے کہ وہ کبھی حیران و پریشان نہیں ہوا تھا۔ اس کو مونچھوں کی فکر تھی کیونکہ اس کے بعض قریبی دوستوں نے اس سے کہا تھا " ممد بھائی ۔۔۔۔۔ کورٹ میں جانا ہے تو ان مونچھوں کے ساتھ کبھی نہ جانا ۔۔۔۔ مجسٹریٹ تمکو اندر کر دے گا۔"

اور وہ سوچتا تھا ۔۔۔۔ ہر وقت سوچتا تھا کہ اس کی مونچھوں نے اس آدمی کو قتل کیا یا اس نے ۔۔۔۔ لیکن کسی نتیجے پر پہنچ نہیں سکتا تھا۔ اس نے اپنا خنجر معلوم نہیں جو پہلی مرتبہ خون آشنا ہوا تھا یا اس سے پہلے کئی مرتبہ ہو چکا تھا، اپنے نیفے سے نکالا اور ہوٹل کے باہر گلی میں پھینک دیا۔ میں نے حیرت بھرے لہبے میں اس سے پوچھا، " ممد بھائی ۔۔۔۔۔۔ یہ کیا؟"

" کچھ نہیں، ومٹو بھائی۔ بہت گھوٹالا ہو گیا ہے۔ کورٹ میں جانا ہے ۔۔۔۔۔ یار دوست کہتے ہیں کہ تمہاری مونچھیں دیکھ کر وہ ضرور تم کو سزا دے گا ۔۔۔۔۔ اب بولو، میں کیا کروں؟"

میں کیا بول سکتا تھا۔ میں نے اس کی مونچھوں کی طرف دیکھا جو واقعی بڑی خوفناک تھیں۔

میں نے اس سے صرف اتناکہا، " ممد بھائی، بات تہ ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ تمہاری مونچھیں مجسٹریٹ کے فیصلے پر ضرور اثر انداز ہوں گی۔ سچ پوچھو تو جو کچھ ہو گا، تمہارے خلاف نہیں ۔۔۔۔۔۔ مونچھوں کے خلاف ہو گا۔"

" تو میں منڈوا دوں؟ " ممد بھائی نے اپنی چہتی مونچھوں پر بڑے پیار سے انگلی پھیری ۔۔۔۔۔

میں نے اس سے پوچھا، " تمہارا کیا خیالہے؟"

" میرا خیال جو کچھ بھی ہے، وہ تم نہ پوچھو ۔۔۔۔۔ لیکن یہاں ہر شخص کا یہی خیال ہے کہ میں انہیں منڈوا دوں تا کہ وہ سالا مجسٹریٹ مہربان ہو جائے۔ تو منڈوا دوں ومٹو بھائی ؟"

میں نے کچھ توقف کے بعد اس سے کہا، " ہاں اگر تم مناسب سمجھتے ہو تو منڈوا دو ۔۔۔۔۔۔ عدالت کا سوال ہے، اور تمہاری مونچھیں واقعی بڑی خوفناک ہیں۔"

دوسرے دن ممد بھائی نے اپنی مونچھیں ۔۔۔۔۔۔ اپنی جان سے عزیز مونچھیں منڈوا ڈالیں۔ کیونکہ اس کی عزت خطرے میں تھی ۔۔۔۔۔ لیکن صرف دوسروں کے مشورے پر ۔۔۔۔۔

مسٹرایف۔ ایچ۔ ٹیگ کی عدالت میں اس کا مقدمہ پیش ہوا۔ مونچھوں کے بغیر ممد تھائی پیش ہوا۔ میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے خلاف کوئی شہادت موجود نہیں تھی، لیکن مجسٹریٹ صاحب نے اس کو خطرناک غنڈہ قرار دیتے ہوئے تڑی پار یعنی صوبہ بدر کر دیا۔ اس کو صرف ایک دن ملا تھا جس میں اسے اپنا تمام حساب کتاب طے کر کے بمبئی چھوڑ دینا تھا۔

عدالت سے باہر نکل کر اس نے مجھ سے کوئی بات نہ کی۔ اس کی چھوٹی بڑی انگلیاں بار بار بالائی ہونٹ کی طرف بڑھتی تھیں ۔۔۔۔۔ مگر وہاں کوئی بال ہی نہیں تھا۔

شام کو جب اسے بمبئی چھوڑ کو کہیں اور جانا تھا، میری اس کی ملاقات ایرانی کے ہوٹل میں ہوئی۔ اس کے دس بیش شاگرد آس پاس کرسیوں پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ جب میں اس سے ملا تو اس نے مجھ سے کوئی بات نہ کی ۔۔۔۔۔۔ مونچھوں کے بغیر وہ بہت شریف آدمی دکھائی دے رہا تھا۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ وہ بہت مغموم ہے۔

اس کے پاس کرسی پر بیٹھ کر میں نے اس سے کہا، " کیا بات ہے ممد بھائی؟"

اس نے جواب میں ایک بہت بڑی گالی خدا معلوم کس کو دی اور کہا، " سالا، اب ممد بھائی ہی نہیں رہا۔"

مجھے معلوم تھا کہ وہ صوبہ بد کیا جا چکا ہے۔ " کوئی بات نہیں ممد بھائی، ۔۔۔۔۔۔ یہاں نہیں تو کسی اور جگہ سہی۔"

اس نے تمام جگہوں کو بے شمار گالیاں دیں " سالا --- اپن کو یہ غم نہیں یہاں رہیں یا کسی اور جگہ رہیں --- یہ سالا مونچھیں کیوں منڈائیں؟"

پھر اس نے ان لوگوں کو جنہوں نے اس کو مونچھیں منڈوانے کا مشورہ دیا تھا، ایک کروڑ گالیاں دیں اور کہا، " سالا اگر مجھے تڑی پار ہی ہونا تھا تو مونچھوں کے ساتھ کیوں نہ ہوا۔"

مجھے ہنسی آ گئی۔ وہ آگ بگولا ہو گیا: " سالا تم کیسا آدمی ہے، ومٹو --- ہم سچ کہتا ہے، خدا کی قسم --- ہمیں پھانسی لگا دیتے ۔۔۔۔۔۔ پر ۔۔۔۔۔۔ یہ بے وقوفی تو ہم نے خود کی۔ اج تک کسی سے نہ ڈرا تھا۔۔۔۔ سالا اپنی مونچھوں سے ڈر گیا۔" یہ کہہ کر اس نے دوہتڑ اپنے منہ پر مارا۔ " ممد بھائی لعنت ہے تجھ پر ۔۔۔۔ سالا ۔۔۔۔۔ اپنی مونچھوں سے ڈر گیا۔ اب جا اپنی ماں کے ۔۔۔۔۔۔۔۔"

اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے جو اس کے مونچھوں بغیر چہرے پر کچھ عجیب سے دکھائی دیتے تھے۔


 

 

۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔

 

Contact:-

Adab Nama

http://www.adabnama.com

303-Classci Plaza, Teen Batti

BHIWANDI-421 302

Dist. Thane ( Maharashtra)

Email:- adabnama@gmail.com

Mob:-09322338918

 



 



 

 

  Domain Name + 1GB Linux India Web Hosting in Rs.349